کج فہمی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ناسمجھی، بے عقلی، غلط فہمی۔ "بہت سی کج فہمیوں، کمزوریوں، خطاریوں اور غفلتوں کی اصلاح کر کے میں دوسری زندگی بھی مجموعی طور پر ویسے ہی گزارنا چاہوں گا جیسے موجودہ زندگی گزار رہا ہوں۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'کج' کے بعد عربی میں ثلاثی مجرد سے مشتق اسم 'فہم' بطور لاحقہ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٠٥ء کو "دیوان بیختہ" کے قلمی نسخہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناسمجھی، بے عقلی، غلط فہمی۔ "بہت سی کج فہمیوں، کمزوریوں، خطاریوں اور غفلتوں کی اصلاح کر کے میں دوسری زندگی بھی مجموعی طور پر ویسے ہی گزارنا چاہوں گا جیسے موجودہ زندگی گزار رہا ہوں۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٠ )

جنس: مؤنث